Akhbar Mein Zaroorat Hai.

Patras Bokhari, in his essay “Akhbar Mein Zaroorat Hai”.

ہمارے اخبار میں پروپرائٹر کا احترام سب سے مقدم ہے وہ شہر کے ایک معزز ڈپو ہولڈر ہیں اخبار انہوں نے محض خدمتِ خلق اور رفاہ عام کے لئے جاری کیا ہے اس لئے یہ ضروری ہے کہ پبلک ان کی شخصیت اور مشاغل سے ہر وقت باخبر رہے چنانچہ ان کے پوتے کا ختنہ، ان کے ماموں کا انتقال ان کے صاحبزادے کی میٹریکولیشن میں حیرت انگیز کامیاب (حیرت انگیز اس معنوں میں کہ پہلے ہی ریلے میں پاس ہوگئے)ایسے واقعات سے پبلک کو مطلع کرنا ہر سب ایڈیٹر کا فرض ہوگا نیز ہر اس پریس کانفرنس میں جہاں خوردونوش کا انتظام بھی ہو ہمارے پروپرائٹر مع اپنے دو چھوٹے بچوں کے جن میں سے لڑکے کی عمر سال اور لڑکی کی پانچ سال ہے شریک ہوں گے اور بچے فوٹو میں بھی شامل ہوں گے اور اس پر کسی سب ایڈیٹر کو لب فقرے کسنے کی اجازت نہ ہوگی ہر بچے بہت ہی ہونہار ہیں اور حالات میں غیر معمولی دلچسپی لیتے ہیں کشمیر کے متعلق پریس کانفرنس ہوئی تو چھوٹی بچی ہندوستانیوں کی ریشہ دوانیوں کا حال سن کر اتنے زور سے روئی کہ خود سردار ابراہیم اسے گود میں لئے لئے پھرتے تو کہیں اس کی طبیعت سنبھلی۔

You can read the entire essay here. Thanks to the sister for buying Kuliyat-e-Patras at the bazar today.

P.S.: This is exactly how some newsrooms function in Pakistan.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: